خاندان لونی شریف

خاندان لونی شریف کا تعارف

خاندان لونی شریف کا تعارف:خاندان لونی شریف کا تعلق بغداد سے ہے ۔اس خاندان کے اولین بزرگ حضرت محمد شاہ جیلانی قدس سرہ ہیں ۔ان کا خاندان پکلانہ پنجاب کا علمی خانوادہ تھا ۔والد گرامی سید نعمت اللہ شاہ صاحب علم ہستیوں میں تھے اور علم وفضل ،سیرت وکردار،زہدوتقویٰ میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ،والدہ محترمہ سیدہ زینب بڑی پارسااور نیک طینت خاتون تھیں ۔اس خاندان کا اصلی وطن بغداد مقدس تھا ۔آپ کے والد گرامی حضور غوث پاک کی نسل میں ۲۳؍ ویں نمبر پہ آتے ہیں ۔ ۶۵۲ ھ تک یہ مبارک خاندان بغداد ہی میں مقیم رہا ،پھر جب تاتاریوں نے بغدادپر حملہ کیا اور اس کے اکثر حصے پر قابض ہوگئے تو بزرگ خاندان نے’’قصبہ جامہ ‘‘ ( جو بغداد ہی کا ایک قصبہ ہے ) میں آکر بود وباش اختیار کرلیا اور ایک لمبے عرصہ تک یہاں سکونت پذیر رہا ۔ساتویں صدی کے اختتام میں اس نسل کے دسوین بزرگ حضرت سید تاج محمود عرف سرخ شہید علیہ الرحمہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ قصبہ جامہ سے ہجرت کرکے ہندوستان کے شہر ’’بدایوں ‘‘ تشریف لائے اور یہیں سکونت اختیار کرلی ۔سوتھا محلہ میں شمسی جامع مسجد کے قریب ایک عظیم خانقاہ کی داغ بیل ڈالی اور رہتی زندگی تک دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے ۔آپ کا مزارمقدس بھی سوتھا محلہ ہی میں ہے جہاں آج بھی بندگان خداروحانی فیوض وبرکات سے مالا مال ہورہے ہیں ۔
آپ کے بعد آپ کے پسماندگان میں آپ کا فرزند ارجمند حضرت بہاول شیر قلندر قدس سرہ اور آپ کی ہمشیرہ محترمہ سیدہ زبیدہ باقی رہیں۔کچھ دنوں بعد حضرت بہاول شیر قلندر نے بحکم نبی کریم ﷺ بدایوں شریف سے پنجاب کا رخ فرمایا اور ملتان کا مشہور دریا ’’راوی‘‘ کو ہٹا کر ۹۵۳ھ میں ایک شہر آباد فرمایا جو بعد میں چل کر شہر ’’ حجرہ مقیم شاہ ‘‘ سے شہرت پایا۔ ۹۷۱ھ میں آپ واصل حق ہوگئے ۔آپ کے بعد تقریبا دس سجادگان مسند نشیں ہوئے اور دعوت وتبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔ گیارہویں نمبر پرحضرت قطب امام قدس سرہ سجادہ نشیں ہوئے اور مدت مدیدہ تک لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے رہے ۔۱۲۱۲ ھ میں جب کچھ نظریاتی اختلافات اس خاندان میں درآئے اور بزرگوں کا شیرازہ بکھر کر پنجاب کے اطراف واکناف میں پھیل گیاتو حضرت قطب امام بھی ہجرت کرکے ’’ بھگ گجراں‘‘(جو کہ پنجاب ہی کا ایک قصبہ ہے ) چلے آئے ۔یہاں آپ کے گھر سید نعمت اللہ قدس سرہ کی ولادت ہوئی جو حضرت محمد شاہ جیلانی کے پدر بزرگوار ہیں ( سید محمد شاہ جیلانی ہی وہ بزرگ ہیں جنھوں نے خانوادۂ لونیہ کی بنیاد رکھی اور انھیں سے لونی شریف کا خاندان آگے چلا )۔اپنے والد گرامی کے سایہ عاطفت میں ابتدائی تعلیم اور فیض باطنی حاصل کرنے کے بعد مزید علمی پیاس بجھانے ’’اوچ شریف‘‘ تشریف لے گئے اور اسی کے قریب ’’پکلانہ گاؤں‘‘ میں مستقل رہائش اختیار کرلی۔اپنے ناناجان کی سنت پہ عمل کرتے ہوئے شادی فرمائی اور تین لڑکے ہوئے : سید محمد شاہ، سید عبداللہ شاہ اور سید احمد شاہ۔تینوں صاحب زادگان بڑے ہی صاحب فراست اور فکر وتدبر میں یکتاے روزگار تھے ۔ تینوں اپنے والد گرامی کی ہی بارگاہ سے علوم ظاہری وباطنی سے آراستہ ہوکر علمی و عملی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرلیے ۔
۱۲۷۰ھ میں جب حالات نے کروٹ لی اور ماحول سازگار نہ رہا تو ۵۴؍ سال کے قیام کے بعد نامساعد حالات کی سنگینی کے پیش نظر تینوں صاحب زادگان نے پکلانہ کو خیرآباد کہہ دیا۔ ( ہجرت کی مکمل تفصیل آگے آرہی ہے )سید عبداللہ نے داریس بندر جدہ شریف کو جائے سکونت کے لیے انتخاب فرمایا اور دوسرے دونوں بھائی راجستھان کی تحصیل’’ گڑامالانی‘‘میں واقع مشہور گاؤں ’’نگر‘‘ چلے آئے۔ فیض رسانی کا سلسلہ یہاں کچھ ہی دن رہا اور پھر ہجرت فرماکر گجرات کی سرحدی زمین ضلع کچھ ،بھوج کے علاقہ ’’واگڑ‘‘ کے ’’گاگودر‘‘ نامی گاؤں میں فروکش ہوگئے ۔۳۵؍سال کی مسلسل جدوجہد اور پیہم کوشش کے بعد دونوں بزرگوں کے علمی فضائل کے ساتھ عملی زندگی لوگوں کے لیے مینارۂ ہدایت بن گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے گجرات کا یہ بنجر علاقہ علم و عرفان کا گہوارہ بن گیا ۔اسی درمیان حضرت سید احمد شاہ حلقہاے مریدین میں دعوت وتبلیغ کے دوران’’ شہر باڑمیر راجستھان) میں واصل حق ہوگئے اور آپ کے جسد خاکی کو وہیں سپرد خاک کردیا گیا ۔ آپ کا مزار ر باڑمیر میں زیارت گاہ عوام و خواص ہے ۔
اب حضرت سید محمد شاہ تنہا رہ گئے ؛مگر قدرت نے یاوری کی اور یہ مرددرویش اکیلے ہی جانب منزل چل دئیے ۔ ۱۳۰۵ھ میں اپنے دعوتی مشن کو جاری رکھتے ہوئے باروئی ،مندراسے قریب ایک بستی میں قدم رنجہ ہوئے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ یہیں مستقل بودوباش اختیار کرلی۔آج دنیا اس بستی کو ’’ لونی شریف‘‘ کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔
مستقل سکونت لونی شریف میں :سادات کرام کا نورانی قافلہ حضرت محمد شاہ قدس سرہ کی قیادت میں لونی تالاب سے جانب جنوب لب دریا فروکش ہواتھا ،لیکن یہ جگہ مستقل قیام پذیری کے لیے نامناسب تھی، وقتی طور پر چند چھپرے (چھپیرے:کچے مکانات جن میں پھوس کا سائبان ہوتا ہے ) بنادئیے گئے تھے جو نہایت کمزور تھے اور موسم کی نزاکت پریشان کن ثابت ہوسکتی تھی۔ محمد یوسف واگھیر (گجرات) بیان کرتے ہیں : ایک دن تیزوتند ہوا چل رہی تھی حضرت نے فرمایا : ’’کل دریا میں زبردست طوفان آرہاہے ؛ اس لیے ان چھپروں کو یہاں سے ہٹادیاجائے‘‘ ۔آپ کی بات بالکل سچ ثابت ہوئی اور دریاے لونی میں اس زور کا سیلاب آیا کہ بہت سے گھر اور بہت سی جانیں ہلاک ہوگئیں ۔ یہ پہلا طوفان تھا جس سے اہل لونی کو کافی جانی ومالی نقصان ہوا۔ اس چیز کو دیکھ آپ قدس سرہ نے زمین تلاش کرنی شروع کردی،کافی تلاش وجستجو کے بعد ایک ایسی زمین ملی جس کا مالک اس سے پریشان تھا ۔بتایا جاتا ہے کہ اس زمین پر جناتوں کا قبضہ تھا ،سورج غروب کے وقت اگر کوئی شخص اس طرف سے گزرتا تو جنات اس پر سوار ہوجاتے ۔خیر مالک زمین نے خوشی بخوشی آپ کے ہاتھوں یہ زمین فروخت کردی۔آپ نے سب سے پہلے شرپسند جنات کو اپنے تابع کیا اور انھیں شیشی میں اتار کر ہمیشہ کے لیے زمین بوس کردیا،پھر باضابطہ اسی زمین پر اپنے اہل وعیال کے لیے رہائش گاہیں بنوائیں ۔یہ وہی زمین ہے جہاں آج’’ پیروں والی مسجد‘‘ ہے ۔
لونی میں علمی بہار کا آغاز:لونی میں مستقل سکونت کے بعد حالات کے پیش نظر جس چیز کی زیادہ ضرورت تھی وہ کسی مدرسہ یا مسجد کی بنیاد تھی تاکہ امت محمدیہ کو تعلیمات اسلام سے بہرہ ور کیا جائے اور قرآن وحدیث سے تہی دامن لوگ اپنے سینوں میں اسلام کے آفاقی پیغامات کو سمو کردین ودنیا میں سرخ روئی حاصل کریں ۔اس لیے آپ نے سب سے پہلے ایک مسجد (بنام ’’پیروں والی مسجد ‘‘) کی بنیاد ڈالی اور چوں کہ آپ بیک وقت شیخ طریقت کے ساتھ ایک کامیاب مدرس اور واعظ وخطیب اور ملت کے سلگتے مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ،ملک وقوم کا مخلص ترین رہبر تھے ،اس لیے آپ نے لونی کی مسجد ہی سے اپنی علمی بہار کا آغاز فرمایا اور قوم وملت کی فلاح وبہبود کے لیے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف کرنے لگے،ایک بے آب وگیا میدان میں لب دریا ریتوں پر بیٹھ کر ملت کے زلف برہم کوسنوارنا کوئی کھیل نہ تھا ،لیکن آپ نے جس صبروشکر اور یک سوئی کے ساتھ اپنے شب وروز کوقابو میں رکھا اور کسی چیز کا پرواہ کیے بغیر دعوت وتبلیغ میں منہمک رہے آج اس کے ثمرات لونی میں دارالعلوم فیض اکبری اور ڈھیر سارے مساجد ومکاتب کی شکل میں ہم دیکھ رہے ہیں ۔