دارالعلوم کا نظم و نسق

دارالعلوم کا نظم و نسق


دار العلوم فیض اکبری کے بانی حضور محمود الاولیا حضرت سید محمود شاہ جیلانی نور اللہ مرقدہ نے ادارے کی بنیاد شورائی نظم پر رکھی، آپ کا معمول یہ تھا کہ مدرسہ کے انتظامی اور تعلیمی امور میں اہلِ علم اور اہل تجربہ سے مشاورت کر کے فیصلہ فرماتے تھے، اس ضمن میں آپ رحمہ اللہ نے دو مجلسیں قائم کی تھیں:

  • (1)
  • ’’مجلسِ شوریٰ‘‘، جو دار العلوم فیض اکبری کے لیے کام کرنے والوں پر مشتمل تھی، اس مجلس سے جامعہ کے خاص انتظامی امور میں مشورہ فرماتے تھے۔

  • (2)
  • ’’مجلسِ تعلیمی‘‘، جو دار العلوم کے اساتذہ میں سے نمایاں علمی شخصیات پر مشتمل تھی، اس مجلس سے تعلیمی امور میں مشاورت فرماتے تھے۔
    ان دونوں مجلسوں کے علاوہ جامعہ کے تمام اساتذہ کرام پر مشتمل ایک ’’عمومی مجلس‘‘ تھی، جس میں علمی اور درسی امور سے متعلق مشورہ ہوتا تھا۔حضور محمود الاولیا کی وفات کے بعد آپ کے فرزند ارجمندباباے قوم و ملت حضرت سید علی اکبر شاہ جیلانی مد ظلہ النورانی کی سرپرستی و سربراہی میں مدرسہ آیا اور تادم تحری یہ مدرسہ آپ ہی کی سربراہی میں آگے بڑھ رہا ہے ۔آپ اپنی مومنامہ فراست اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر دار العلوم کی ترقی میں مثالی کردار
    ادا کر رہے ہیں۔یہ دونوں مجلسیں اب بھی ہیں اور اب موجودہ سربراہ اعلیٰ کے حکم و ایماء پر کام کرتی ہیں۔
    الحمد للہ! اب بھی جامعہ کا انتظامی ڈھانچہ انہی خطوط پر استوار ہے، سال میں متعدد بار تعلیمی سال کی ابتداء، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کی مناسبت سے نیز عرس اکبری و محمودی کی مناسبت سے ا جتماعات ہوتے ہیں اور جامعہ کے انتظامی و تعلیمی امور پر قیمتی آراء و تجاویز زیر غور لائی جاتی ہیں، ان مجالس میں مہتمم، نائب مہتمم، صدر المدرسین ناظم تعلیمات اور شیخ الحدیث کے علاوہ جملہ اساتذہ کرام شامل رہتے ہیں۔

    دار العلوم کے موجودہ مہتمم و انتظامی کارکنان

    .اساتذہ کرام:

    موجودہ سربراہ اعلیٰ حضرت سید علی اکبر شاہ جیلانی دام ظلہ العالی و النورانی کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ جامعہ کے لیے باکمال، تجربہ کار اور مخلص اساتذہ کرام کا انتخاب ہو، نیز اساتذہ کرام کو ہمیشہ یہ نصیحت فرمایا کرتے ہیں کہ ہر استاذ اپنے آپ کو جامعہ کا ملازم نہیں بلکہ ذمہ دار سمجھے،، چنانچہ آپ کے ساتھ ایسے اساتذہ کرام اور رفقاء جمع ہوگئے جنہوں نے اپنے آپ کو علم اور اس جامعہ کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے ۔حضور بابا صاحب قبلہ بڑے ہی علم دوست اور علما نواز ہیں ۔آپ علما سے بے حد محبت فرماتے ہیں ۔ان سے نہایت اچھے انداز میں پیش آتے ہیں ۔ان کی خدمات کو سراہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج ان کے پاس اساتذہ کی ایک مضبوط ٹیم موجود ہے جو زبردست متحرک ہے۔ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں