دارالعلوم کا نظم و نسق
’’مجلسِ شوریٰ‘‘، جو دار العلوم فیض اکبری کے لیے کام کرنے والوں پر مشتمل تھی، اس مجلس سے جامعہ کے خاص انتظامی امور میں مشورہ فرماتے تھے۔
’’مجلسِ تعلیمی‘‘، جو دار العلوم کے اساتذہ میں سے نمایاں علمی شخصیات پر مشتمل تھی، اس مجلس سے تعلیمی امور میں مشاورت فرماتے تھے۔
ان دونوں مجلسوں کے علاوہ جامعہ کے تمام اساتذہ کرام پر مشتمل ایک ’’عمومی مجلس‘‘ تھی، جس میں علمی اور درسی امور سے متعلق مشورہ ہوتا تھا۔حضور محمود الاولیا کی وفات کے بعد آپ کے فرزند ارجمندباباے قوم و ملت حضرت سید علی اکبر شاہ جیلانی مد ظلہ النورانی کی سرپرستی و سربراہی میں مدرسہ آیا اور تادم تحری یہ مدرسہ آپ ہی کی سربراہی میں آگے بڑھ رہا ہے ۔آپ اپنی مومنامہ فراست اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر دار العلوم کی ترقی میں مثالی کردار
ادا کر رہے ہیں۔یہ دونوں مجلسیں اب بھی ہیں اور اب موجودہ سربراہ اعلیٰ کے حکم و ایماء پر کام کرتی ہیں۔
الحمد للہ! اب بھی جامعہ کا انتظامی ڈھانچہ انہی خطوط پر استوار ہے، سال میں متعدد بار تعلیمی سال کی ابتداء، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کی مناسبت سے نیز عرس اکبری و محمودی کی مناسبت سے ا جتماعات ہوتے ہیں اور جامعہ کے انتظامی و تعلیمی امور پر قیمتی آراء و تجاویز زیر غور لائی جاتی ہیں، ان مجالس میں مہتمم، نائب مہتمم، صدر المدرسین ناظم تعلیمات اور شیخ الحدیث کے علاوہ جملہ اساتذہ کرام شامل رہتے ہیں۔
دار العلوم کے موجودہ مہتمم و انتظامی کارکنان
اردو