دارالعلوم کا نظام تعلیم

دارالعلوم فیض کبری کا نظام تعلیم

:داخلہ
داخلہ کے سلسلے میں دار العلوم فیض اکبری کا ایک لازمی اصول یہ ہے کہ دار العلوم میں ایسے طالب علم داخل ہوں جو دینی مزاج اورمطلوبہ علمی استعداد رکھتے ہوں ،اس لیے داخلہ کے لیے امتحان ِداخلہ لازمی شرط ہے۔
دار العلوم فیض اکبری کے تعلیمی سال کا آغاز شوال المکرم کے پہلے عشرے میں ہوتاہے ،عموماً چھ یا سات شوال کو نئے داخلوں کی تاریخ، تفصیل اور طریقہٴ کار کا اعلان کیا جاتاہے۔
:شرائط داخلہ
کسی بھی درجے میں داخلہ کے لیے آنے والا طالب علم گذشتہ درجہ کی کتابوں کا امتحان ہوتا ہے ساتھ ہی داخلہ کے خواہشمند طلبہ کے لیے ٹی سی وغیرہ لازمی چیزیں ہوتی ہیں اس کے بغیر داخلہ ممنوع ہوتا ہے ،اس کے علاوہ کم از کم ۱۲ ؍ سال سے اوپر کا ہوناچاہیے ۔
طلبہ کی تربیت پر جامعہ میں پوری توجہ دی جاتی ہے اس لیے طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ جامعہ کے ان قواعد وضوابط کی پابندی کرے جو آگے آرہے ہیں۔

  • (۱)
  • بنیادی طور پر یہ ضروری ہے کہ طالب علم سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہو ،اتباع سنت اور اسلاف کا طرز ِفکروعمل اس کا شیوہ ہو ۔مسلک اعلیٰ حضرت کا پانبد ہو ۔

  • (۲)
  • داخلہ کے لیے عموماً مڈل ، اسکول ؍مدرسہ سے حاصل شدہ سند، یا ٹی سی ،ایل ،سی ،آدھار کارڈ،راشن کارڈ اور جنم پرمان پترکی بنیاد پر کسی بھی درجہ کے لیے امتحان ِداخلہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ساتھ طالب علم اور اس کے والد کا پاس پورٹ سائز فوٹو،اور دیگر ضروری کاغذات مطلوب ہوتے ہیں ،اس کے بغیر داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔

  • (۳)
  • جو طلبہ ابتداء ہی سے (کسی مدرسہ میں پڑھے بغیر)دا ر العلوم فیض اکبری کا رخ کرتے ہیں ان کے لیے درجہ دینیات میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے ناظرہ کسی مکتب میں پڑھ کر آئیں،ساتھ ہی کم از کم ۱۲؍ سال سے زائد عمر کا ہو ، اس سے کم عمر کے بچوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

  • (۴)
  • دار العلوم میں عربی اور اردو میں تعلیم دی جاتی ہے، اس لئے طالب علم کی دونوں زبانوں سے کچھ نہ کچھ مناسبت ضروری ہے۔

  • (۵)
  • بیرو نی طلبہ آمد ورفت کے اخراجات کا خود ذمہ دار ہوتے ہیں ، البتہ مستحق طلبہ کو داخلہ کے بعد سے تعلیم، کتب، علاج، کھانے پینے اور جامعہ کے اندر رہائش کی سہولتیں مفت مہیا کی جاتی ہیں۔

  • (۶)
  • کسی بھی درجہ میں داخلہ کے خواہش مند طالب علم کو مطلوبہ درجہ میں داخلہ کے لیے سابقہ درجہ کا امتحان دینا ضروری ہے ،صرف امتحان میں کامیابی پر داخلہ نہیں ملتا بلکہ جہاں تعلیمی استعدادکی چھان بین ہوتی ہے وہاں طالب علم کے ذہنی وفکری رجحان کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جامعہ میں داخلہ لینے والے طالب علم کا ذہن وفکر کہیں غیر علمی امور میں مشغول تو نہیں!
    داخلہ ٔ امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدوار طالب علم کو داخلہ فارم دیا جاتا ہے جس پر دفتری کاروائی کے بعد اس طالب علم کا داخلہ مکمل ہوکر رجسٹر داخلہ میں اس کے نام کا اندراج ہوتاہے۔

    :اوقات تعلیم
    دار العلوم فیض اکبری میں صبح ۷؍۴۵ سے لے کر، ۱؍۳۰ تک تعلیم ہوتی ہے ، اس کے بعد کھانے،آرام اور نماز کا وقفہ ہوتا ہے ،بعدہ دوپہر میں ۳؍۴۵ کو بچوں کو جگا دیا جاتا ہے اور پھر بچے عصر تک پڑھتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ مغرب سے لے کر کم ازکم رات ساڑھے نوبجے تک اساتذہ کی نگرانی میں تکرار ومطالعہ کا نظام بنا ہوا ہے،جبکہ اسکول کے تعلیمی اوقات صبح آٹھ بجے سے ایک بجے تک ہیں ۔
    :تعلیمی دورانیہ اور تعطیلات
    دار العلوم فیض اکبری میں تعلیمی دورانیہ تقریبا دس ماہ پر مشتمل ہے جو نصف شوال سے شروع ہوکر اوائل شعبان پر ختم ہوتا ہے۔ سالانہ تعطیلات دوماہ کی ہوتی ہیں، اس کے علاوہ ششماہی امتحان کے بعد ۲۵ ؍ دن کی چھٹی ہوتی ہے۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر ،محرم الحرام میں عرس اکبری و محمودی کے موقع پر بھی ۳؍ دن کی تعطیل ہوتی ہے جبکہ ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی ہے۔
    :طلبہ کی کفالت اور وظائف
    دا العلوم فیض اکبری کے تمام شعبوں میں تعلیم مفت دی جاتی ہے، طلبہ سے تعلیمی ،رہائشی یاکسی اورقسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی جبکہ نصاب کی کتابیں طلبہ کو عاریۃً دی جاتی ہیں،مستحق طلبہ کو وظیفہ، کھانا، علاج اور دیگر ضروریات بھی مہیا کی جاتی ہیں، جسے اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم اورنیک بندوں کے تعاون کے ذریعہ سے پورا فرما تا ہے ۔