دارالعلوم فیض اکبری کے شعبہ جات
:ناظرہ قرآن کریم
دار العلوم فیض اکبری کے اس شعبہ میں آنے والے بچوں کو پہلے “قاعدہ” اور پھر ناظرہ قرآن کریم اول تا آخر تجوید اور صحیح قراء ت کے ساتھ پڑھایاجاتاہے ،اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کواساتذہ کرام اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروری احکام خصوصاً وضو، طہارت اور نماز سے متعلق مسائل سکھاتے ہیں۔
:حفظ قرآن کریم
دارالعلوم فیض اکبری کا ایک اہم شعبہ “تحفیظ القرآن الکریم “ہے جس میں ناظرہ کے بعد بچوں کوقرآن کریم حفظ کرایا جاتاہے ،دار العلوم کے قیام کے بعد اب تک اس سے سیکڑوں کی تعداد میں بچے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں اور اس وقت بھی اس شعبہ میں کئی طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔
:تجویدو قرأت
دار العلوم فیض اکبری میں شروع ہی سے ” فن تجوید “پر پوری توجہ دی جاتی ہے تاکہ ہرطالب علم قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ سکے، اس لئے درجات حفظ کے علاوہ “درس نظامی “کے ابتدائی اور ثانوی درجوں میں بھی تجوید لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے جسے فن تجوید کے ماہر اساتذہ پڑھاتے ہیں ۔
:درس نظامی
یہ کورس دار العلوم فیض اکبری میں نوسال پر مشتمل ہے۔اس میں اعدادیہ تا ثامنہ تک کی تعلیم ماہر و حاذق اساتذہ کی نگران میں دی جاتی ہے۔
اس کورس میں جو علوم پڑھائے جاتے ہیں وہ ترجمہ وتفسیر قرآن کریم ، اصول تفسیر، حدیث نبوی، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، علم میراث، علم کلام، سیرت نبوی، تاریخ اسلام اوردیگر علوم عربیہ جیسے صرف، نحو، لغت، بلاغت، ادب، عروض وقوافی، منطق، فلسفہ اورفلکیات وغیرہ اور علوم عصریہ جیسے حساب ،انگریزی اور کمپیوٹرپرمشتمل ہیں۔
دار العلوم فیض اکبری میں ہندوستان کے بڑے بڑے مدارس جیسے الجامعۃ الاشرفیہ وغیرہ کا مجوزہ نصاب پڑھایاجاتاہے ،تقریبا سبھی درجات میں درس نظامی کے نصاب کے علاوہ کئی دیگر مفید کتابیں و مضامین جیسے سیاسیات،سائنس اور جنرل نالج بھی مطالعہ میں شامل کی گئی ہیں۔
:شعبۂ تبلیغ و خطابت
درس نظامی پڑھنے والے تمام طلباء کے لیے یہ نظم بنایاگیا ہے کہ وہ جمعرات کے دن سات گھنٹی کے بعد اپنی اپنی درس گاہ میں جمع ہو کر فن خطابت کی مشق کریں ، تاکہ آئندہ عملی میدان میں خطاب وبیان کے ذریعے وہ اچھے انداز سے عوام کو دینی تعلیمات سے روشناس کرائیں،اس کے لیے ایک باقاعدہ نظام ہے ، ہر کلاس کے لیے نگران مقرر ہیں۔
اس شعبے کے معیار کا اندازہ لگانے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے سالانہ ’’جشن یوم صدیق اکبر‘‘ کا انعقاد کیا جاتا ہے ،جس میں تقریر و تحریر اور نعت و قرأت کے مسابقہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس میں طلبہ کی علمی لیاقت کی جانچ پرتال کے لیے بطور فیصل علمائےکرام و پروفیسران مدعو کیے جاتے ہیں پھر ان مقابلوںمیں اول ، دوم ، سوم آنے والے طلباء کو جامعہ کی طرف سے خصوصی انعام دیا جاتا ہے ، جبکہ مقابلہ کے دیگر شرکاء کو بھی حوصلہ افزائی کے لیے انعام دیا جاتا ہے۔
:دار الافتاء و دار القضاء
دار العلوم فیض اکبری کا وہ شعبہ ہے جس کو مسلمانوں کے شرعی مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے ،مفتیان کرام شرعی فتاوی صادر فرماکران کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کاجواب تحریری صورت میں دیتے ہیں ،اسی طرح بہت سے لوگ خود حاضر ہوکر زبانی مسائل بھی پوچھتے ہیں، اس کے علاوہ ملک کے ہر خطے سے ڈاک ؍ واٹسپ ،ای میل وغیرہ کے ذریعہ آنے والے سوالات کے جوابات بھی ارسال کیے جاتے ہیں،نیز مسلمان ذاتی ، خانگی اور اجتماعی معاملات میں بذریعہ فون بھی مسائل دریافت کرتے ہیں ۔
دار الافتاء سے سالانہ کافی تعداد میں فتاویٰ جاری ہوتے ہیں اوران کا باقاعدہ ریکارڈ ر بھی کھاجاتا ہے، اس وقت تک تقریباً دو سو سے زائد فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں۔ان شاء اللہ ان فتاوی کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائے گا ،اس پر کام جاری ہے ۔
:محمود الاولیا لائبریری
دار العلوم فیض اکبری کے احاطہ میں دو عظیم کتب خانہ ہیں جس میں درسی کتابوں کے علاوہ علوم اسلامیہ اور دیگر علوم کی ہزاروں اہم کتابیں موجود ہیں ،یہ کتب خانہ صبح وشام کے تعلیمی اوقات کے علاوہ مغرب تاعشاء بھی کھلے رہتے ہیں ، طلبہ اور اساتذہ کرام اس سے علمی استفادہ کرتے ہیں۔
:دار التصنیف والتالیف
دار العلوم فیض اکبری میں “دار التصنیف و التالیف “کے نام سے ایک مستقل شعبہ قائم ہے جس میں ایسے موضوعات پر کتابیں تصنیف و تالیف کی جاتی ہیں جن کی اس وقت امت کو ضرورت ہے ،اس شعبہ سے ہرسال سالنامہ صداے اکبری بھی شائع کی جاتی ہے جو مختلف مضامین کا مجموعہ ہے، اب تک دارالتصنیف والتالیف سے کئی تالیفات شائع ہو چکے ہیں ، اس کی مطبوعات میں ۔’’خطبات اکبری ‘‘ گلزار صوفیاے نقش بند ‘‘ ’’مشائخ لونی شریف ،حیات و خدمات ۔سال نامہ صدائے اکبری۔ وغیرہ کتابیں شامل ہیں ۔
:شعبۂ کمپیوٹر
اس کے لیے الگ سے ایک خوشنما کمرہ مختص ہے جو محمودی کمپیوٹر سینٹرسے موسوم ہے ،جس میں درس نطامی اور شعبۂ قرأت کے تمام طلبہ کو ایک ایک گھنٹی کمپیوٹر کی تعلیم تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں دی جاتی ہے۔
شعبۂ قرأت خصوصی: دار العلوم فیض اکبری میں تین سالہ قرت خصوصی کورس ہے ،اس میں فنی و مشقی قراء کی نگرانی میں قرأت سبعہ بروایت حفص کی تعلیم
دی جاتی ہے۔اب تک اس شعبہ سے سیکڑوں طلبہ فارغ ہوچکے ہیں۔
دار العلوم فیض اکبری کے اس شعبہ میں آنے والے بچوں کو پہلے “قاعدہ” اور پھر ناظرہ قرآن کریم اول تا آخر تجوید اور صحیح قراء ت کے ساتھ پڑھایاجاتاہے ،اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کواساتذہ کرام اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروری احکام خصوصاً وضو، طہارت اور نماز سے متعلق مسائل سکھاتے ہیں۔
:حفظ قرآن کریم
دارالعلوم فیض اکبری کا ایک اہم شعبہ “تحفیظ القرآن الکریم “ہے جس میں ناظرہ کے بعد بچوں کوقرآن کریم حفظ کرایا جاتاہے ،دار العلوم کے قیام کے بعد اب تک اس سے سیکڑوں کی تعداد میں بچے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں اور اس وقت بھی اس شعبہ میں کئی طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔
:تجویدو قرأت
دار العلوم فیض اکبری میں شروع ہی سے ” فن تجوید “پر پوری توجہ دی جاتی ہے تاکہ ہرطالب علم قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ سکے، اس لئے درجات حفظ کے علاوہ “درس نظامی “کے ابتدائی اور ثانوی درجوں میں بھی تجوید لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے جسے فن تجوید کے ماہر اساتذہ پڑھاتے ہیں ۔
:درس نظامی
یہ کورس دار العلوم فیض اکبری میں نوسال پر مشتمل ہے۔اس میں اعدادیہ تا ثامنہ تک کی تعلیم ماہر و حاذق اساتذہ کی نگران میں دی جاتی ہے۔
اس کورس میں جو علوم پڑھائے جاتے ہیں وہ ترجمہ وتفسیر قرآن کریم ، اصول تفسیر، حدیث نبوی، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، علم میراث، علم کلام، سیرت نبوی، تاریخ اسلام اوردیگر علوم عربیہ جیسے صرف، نحو، لغت، بلاغت، ادب، عروض وقوافی، منطق، فلسفہ اورفلکیات وغیرہ اور علوم عصریہ جیسے حساب ،انگریزی اور کمپیوٹرپرمشتمل ہیں۔
دار العلوم فیض اکبری میں ہندوستان کے بڑے بڑے مدارس جیسے الجامعۃ الاشرفیہ وغیرہ کا مجوزہ نصاب پڑھایاجاتاہے ،تقریبا سبھی درجات میں درس نظامی کے نصاب کے علاوہ کئی دیگر مفید کتابیں و مضامین جیسے سیاسیات،سائنس اور جنرل نالج بھی مطالعہ میں شامل کی گئی ہیں۔
:شعبۂ تبلیغ و خطابت
درس نظامی پڑھنے والے تمام طلباء کے لیے یہ نظم بنایاگیا ہے کہ وہ جمعرات کے دن سات گھنٹی کے بعد اپنی اپنی درس گاہ میں جمع ہو کر فن خطابت کی مشق کریں ، تاکہ آئندہ عملی میدان میں خطاب وبیان کے ذریعے وہ اچھے انداز سے عوام کو دینی تعلیمات سے روشناس کرائیں،اس کے لیے ایک باقاعدہ نظام ہے ، ہر کلاس کے لیے نگران مقرر ہیں۔
اس شعبے کے معیار کا اندازہ لگانے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے سالانہ ’’جشن یوم صدیق اکبر‘‘ کا انعقاد کیا جاتا ہے ،جس میں تقریر و تحریر اور نعت و قرأت کے مسابقہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس میں طلبہ کی علمی لیاقت کی جانچ پرتال کے لیے بطور فیصل علمائےکرام و پروفیسران مدعو کیے جاتے ہیں پھر ان مقابلوںمیں اول ، دوم ، سوم آنے والے طلباء کو جامعہ کی طرف سے خصوصی انعام دیا جاتا ہے ، جبکہ مقابلہ کے دیگر شرکاء کو بھی حوصلہ افزائی کے لیے انعام دیا جاتا ہے۔
:دار الافتاء و دار القضاء
دار العلوم فیض اکبری کا وہ شعبہ ہے جس کو مسلمانوں کے شرعی مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے ،مفتیان کرام شرعی فتاوی صادر فرماکران کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کاجواب تحریری صورت میں دیتے ہیں ،اسی طرح بہت سے لوگ خود حاضر ہوکر زبانی مسائل بھی پوچھتے ہیں، اس کے علاوہ ملک کے ہر خطے سے ڈاک ؍ واٹسپ ،ای میل وغیرہ کے ذریعہ آنے والے سوالات کے جوابات بھی ارسال کیے جاتے ہیں،نیز مسلمان ذاتی ، خانگی اور اجتماعی معاملات میں بذریعہ فون بھی مسائل دریافت کرتے ہیں ۔
دار الافتاء سے سالانہ کافی تعداد میں فتاویٰ جاری ہوتے ہیں اوران کا باقاعدہ ریکارڈ ر بھی کھاجاتا ہے، اس وقت تک تقریباً دو سو سے زائد فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں۔ان شاء اللہ ان فتاوی کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائے گا ،اس پر کام جاری ہے ۔
:محمود الاولیا لائبریری
دار العلوم فیض اکبری کے احاطہ میں دو عظیم کتب خانہ ہیں جس میں درسی کتابوں کے علاوہ علوم اسلامیہ اور دیگر علوم کی ہزاروں اہم کتابیں موجود ہیں ،یہ کتب خانہ صبح وشام کے تعلیمی اوقات کے علاوہ مغرب تاعشاء بھی کھلے رہتے ہیں ، طلبہ اور اساتذہ کرام اس سے علمی استفادہ کرتے ہیں۔
:دار التصنیف والتالیف
دار العلوم فیض اکبری میں “دار التصنیف و التالیف “کے نام سے ایک مستقل شعبہ قائم ہے جس میں ایسے موضوعات پر کتابیں تصنیف و تالیف کی جاتی ہیں جن کی اس وقت امت کو ضرورت ہے ،اس شعبہ سے ہرسال سالنامہ صداے اکبری بھی شائع کی جاتی ہے جو مختلف مضامین کا مجموعہ ہے، اب تک دارالتصنیف والتالیف سے کئی تالیفات شائع ہو چکے ہیں ، اس کی مطبوعات میں ۔’’خطبات اکبری ‘‘ گلزار صوفیاے نقش بند ‘‘ ’’مشائخ لونی شریف ،حیات و خدمات ۔سال نامہ صدائے اکبری۔ وغیرہ کتابیں شامل ہیں ۔
:شعبۂ کمپیوٹر
اس کے لیے الگ سے ایک خوشنما کمرہ مختص ہے جو محمودی کمپیوٹر سینٹرسے موسوم ہے ،جس میں درس نطامی اور شعبۂ قرأت کے تمام طلبہ کو ایک ایک گھنٹی کمپیوٹر کی تعلیم تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں دی جاتی ہے۔
شعبۂ قرأت خصوصی: دار العلوم فیض اکبری میں تین سالہ قرت خصوصی کورس ہے ،اس میں فنی و مشقی قراء کی نگرانی میں قرأت سبعہ بروایت حفص کی تعلیم
دی جاتی ہے۔اب تک اس شعبہ سے سیکڑوں طلبہ فارغ ہوچکے ہیں۔
:ایس،ایم ،جے ہائی اسکول یہ ادارۂ ہذا کا مستقل ایک شعبہ ہے ،جس کی عمارت احاطۂ آستانۂ عالیہ میں دار العلوم کی عمارت سے متصل ہے ،اس میں دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت کا کلاس ۶؍ تا ۱۲؍ آرٹس اور کومرس کا معقول بندوبست ہے ۔پندرہ با صلاحیت و تجربہ کار اساتذہ کی ٹیم اپنی نگرانی میں صوبۂ گجرات ایجوکیشن بور ڈ جی،ایس،ای،بی،کے نصاب کے مطابق طلبہ کی شخصیت کو نکھار اور سنوار رہے ہیں۔اس شعبے میں بیرونی طلبہ کے قیام ْ کے لیے ہاسٹل کا بھی انتطام ہے ،ساتھ ہی طعام علاج و معالجہ ،کھیل کود کے ساز و سامان ،میدان اور دیگر سائنسی پریکٹیکلی آلات و اسباب وافر مقدار میں دستیاب ہیں ۔
:اسناد و مار کشیٹ دار العلوم فیض اکبری میں درس نظامی پڑھنے والوں کومندرجہ ذیل سند دی جاتی ہے جاتی ہے۔
عالمیت۔ٖ۔ فضیلت۔ قرأت خصوصی۔حفظ۔
اردو