دارالعلوم کی تاسیس
دارالعلوم فیض اکبری کی تأسیس
ماہ ربیع النورشریف ۱۳۸۸ ھ میں محمود الاولیا حضرت سید محمود شاہ جیلانی رحمہ اللہ نے اس جامعہ کی بنیاد’’اکبری مسجد ‘‘کے صحن میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے رکھی۔ اُس وقت جامعہ کی نہ تو کوئی عمارت تھی اور نہ ہی سردست اس کے اسباب و وسائل مہیا تھے، طلبہ مسجد ہی میں پڑھتے تھے اور بعض طلبہ تو زمین ہی میں رہتے تھے، رہائش کے لیے نہ کوئی کمرہ تھا، نہ ہی تعلیم کے لیے کوئی درس گاہ تھی۔مدرسہ فیض اکبری اپنے دھیرے دھیرے قدموں کے ساتھ اور طالبان علوم نبویہ مولانا عبد الحق صاحب ڈیمبائی کی زیر نگرانی علم و عمل کے ہتھیار سے لیس ہورہے تھے ۱۳۹۴ھ میں شب و روز کی محنت کے بعد مولانا موصوف کی محنت رنگ لائی اور اس کے سالانہ جلسے میں تقریبا ۸؍ عالم و فاضل ،۱۶؍ قاری اور ط۱؍ حافظ اس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے اور اپنی علمی بساط کے مطابق گجرات و راجستھان کے طول و عرض میں خدمت دین کے لیے پھیل گئے۔
اس کام کی ابتداء میں حضور محمود الاولیا کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جنہیں آپ نے نہایت صبر و تحمل سے برداشت کیا، جو علماء حق کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور آپ کے صبر اور اخلاص کی برکت سے ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کو رفتہ رفتہ دور فرما دیا اور آپ کے کام میں برکت ڈال دی۔ ادھر طلبہ کی کثرت سے مدرسہ فیض اکبری کا دامن تنگ ہونے گا تھا ۔اس کے تعلیمی معیار اور تربیتی اصول و ضوابط کی عمدگی کی وجہ سے بیرونی طلبہ کثرت ادھر رخ کرنے لگے تھے ۔ان حالات کے پیش نظر آپ نے ۸؍ کمروں پر مشتمل ایک عمارت کی بنا رکھی ،لیکن یہ حکومت وقت کی کی مخالفت اور بے جا مداخلت کی نذر ہوکر رہ گئی اور کام رک گیا ۔آخر کار پرمیشن کے لیے کوشش کی گئی اور بڑی تگ و دو کے بعد گجرات گورنمنٹ سےپچاس میٹر کے رقبہ میں ایک وسیع عمارت تعمیر کرنے کی منظوری مل گئی ،منظوری ملتے ہی ۱۳۹۶ھ مطابق ۲؍ مئی ۱۹۷۶ء کو درگاہ شریف سے متصل ایک لمبی عمارت کی بنیاد ڈال دی گئی جو کہ ۴۱؍ کمروں پر مشتمل تھی ، اس طرح سے مدرسہ اکبری دار العلوم فیض اکبری میں بدل گیا۔اب جاکر حضور حمود الاولیا کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔حضور محمود الاولیا علمی شخصیت کے حامل تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ صلاحیتوں اور عظیم اخلاص سے نوازا تھا جس کی بدولت دیکھتے ہی دیکھتے آپ کا یہ علمی ادارہ بین الاقوامی دار العلوم کی حیثیت اختیار کرگیا، اور اس میں ہندوستان کے ہر گوشہ سے علم دین کے پیاسے علم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے، اور یوں اللہ تعالیٰ نے حضور محمود الاولیا حضرت سید محمود شاہ جیلانی علیہ الرحمہ کی زندگی ہی میں جامعہ کو علمی اور انتظامی لحاظ سے ایک مثالی ادارہ بنا دیا۔ فا الحمدللہ علیٰ ذلک۔
اردو